Election 2018 Naqaabil e Yaqeen Khabar
Posted By: Akbar on 09-07-2018 | 08:25:12Category: Political Videos, Newsالیکشن 2018 : جیپ کے نشان پر کتنے امیدوار عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ؟ ناقابل یقین خبر ملاحظہ کیجیے
اسلام آباد(ویب ڈیسک)بلوچستان کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوںپر 20 امیدوار جیب کا نشان لیکر میدان میں آ ئیںگے۔ بلوچستان سے قومی وصوبائی کی 67جنرل نشستوں پر مجموعی طور پرایک ہزار 239 امیدوار میدان میں ہیں، ان میں سے بیشتر کا تعلق تو مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے تاہم 599امیدوار
آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 جنرل نشستوں کے لئے 288 جبکہ بلوچستان اسمبلی کی 51 جنرل نشستوں پر 951 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، اگر الیکشن میں امیدواروں کی تعداد کو دیکھا جائے تو نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی واحد جماعت ہے جس کے قومی اسمبلی کے تمام 16 حلقوں میں امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کے51میں سے 48 حلقوں میں امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل امیدواروں کی تعداد کے لحاظ سے63امیدواروں کیساتھ دوسرے نمبر پر ہے، ایم ایم اے نے قومی اسمبلی کے15اورصوبائی اسمبلی کے48حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا امیدواروں کی تعداد کے حساب سے 53،53امیدواروں کے ساتھ تیسرا نمبر ہے، پی ٹی آئی نے قومی کے14 حلقوں اوربلوچستان اسمبلی کے 39حلقوں میں امیدوار کھڑے کئے ہیں جبکہ بی این پی مینگل نے قومی اسمبلی کے14 اور صوبائی اسمبلی کے 39حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کا 52حلقوں کیلئے امیدواروں کے ساتھ چوتھا، نیشنل پارٹی کا 36امیدواروں کے ساتھ پانچواں اور مسلم لیگ ن کا 35امیدواروں کے ساتھ چھٹا نمبر ہے۔اس دفعہ بلوچستان میں انتخابات میں مختلف سیاسی امیدواروں کے درمیان کانٹے دارمقابلہ ہونے کہ توقع ہے۔ (ش۔ز۔م)

Hania Aamir's new video on Asim Azhar's song goes viral on social media
Is good news coming to Neelam Munir's house? Viral video creates a stir
PPP walks out of budget session, decides to boycott
In the budget, we worked for exports and tax system, says Finance Minister
Expansion of financial facilities in Pakistan, a new journey of public prosperity and economic development
Another increase in the price of gold, how high did it reach per tola?












