Ise Kehte Hain Baazi Palatna
Posted By: Abid on 30-01-2019 | 15:41:31Category: Political Videos, Newsاسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کی خواہش پوری کرتے ہوئے انکو پی اے سی کا ممبر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔شیخ رشید کس کمیٹی کا حصہ ہوں گے ،اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔تفصیلات کے مطابق جب سے شیخ رشید نے وزارت ریلوے
کا قلمدان سنبھالا ہے ، محکمہ ریلوے میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سو روزہ کارکردگی دیکھنے کے لیے جو اجلاس بلایا گیا تھا اس میں نہ صرف وزیر اعظم عمران خان نے شیخ رشید کی کارکردگی کو سراہا بلکہ ساتھی وزراء نے بھی ڈیسک بجا کر شیخ رشید کو داد دی۔شیخ رشید ہمہ وقت ریلوے کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں اور ان کی جانب سے ریلوے کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ابھی تک متعدد ٹرینوں کا افتتاح کر دیا گیا ہے جبکہ ریلوے کی زمینیں واگزار کروانے کا سلسلہ جاری ہے۔تاہم شیخ رشید گزشتہ کچھ عرصے سے خواہش کررہے تھے کہ انکو پی اے سی کی ممبر شپ دے دی جائے لیکن تحریک انصاف کی جانب سے اس پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جارہا تھا ۔تاہم اس حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ تحریک انصاف نے شیخ رشید کو پی اے سی کا ممبر بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن وہ کس کمیٹی کا حصہ ہوں گے اس پر ابھی بات چیت جاری ہے۔شیخ رشید کو پی اے سی کا ممبر بنانے کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کیا گیا ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ ایاز صادق کی جگہ سعد رفیق رکن پی اے سی ہوں گے۔کمیٹی چئیرمین شہباز شریف سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کریں گے۔میڈیا رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نےشہباز شریف سے مدد مانگی تھی اور کہا تھا کہ بس اب بہت ہو گیا آپ مداخلت کریں۔واضح ہو کہ قائمہ کمیٹیوں کے حوالے سے آج اپوزیشن اور حکومت میں فارمولا بھی طے پا چکا ہے۔

Hania Aamir's new video on Asim Azhar's song goes viral on social media
Is good news coming to Neelam Munir's house? Viral video creates a stir
PPP walks out of budget session, decides to boycott
In the budget, we worked for exports and tax system, says Finance Minister
Expansion of financial facilities in Pakistan, a new journey of public prosperity and economic development
Another increase in the price of gold, how high did it reach per tola?












