Tehran does not accept talks with the US under the shadow of threats. Speaker of the Iranian Parliament
Posted By: sadar on 1 hour agoCategory: Political Videos, Newsایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے اعلان کیا کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں کرتا۔ قاليباف جو کہ ایران کے چیف مذاکرات کار بھی ہیں، انھون نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو "ہتھیار ڈالنے کی میز" میں بدلنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ایک ایرانی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر "واشنگٹن پوسٹ" اخبار کو بتایا کہ ٹرمپ کے عوامی بیانات کا لہجہ اور مسلسل امریکی محاصرہ وہ دو خطرناک ترین عوامل ہیں جو مذاکرات کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تہران معاہدے کے خدوخال پر بڑی حد تک متفق ہو چکے ہیں، لیکن ٹرمپ کا سخت گیر لہجہ سفارتی پیش رفت کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر اشارہ دیا کہ وہ ایرانی بندرگاہوں کا امریکی محاصرہ صرف اسی صورت میں ختم کریں گے جب ایران کے ساتھ "کوئی معاہدہ" طے پا جائے گا۔ انہوں نے لکھا کہ یہ محاصرہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر رہا ہے اور انہیں روزانہ 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جو وہ قلیل مدت کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ٹرمپ نے مختلف صحافیوں کو ٹیلی فون انٹرویوز دیتے ہوئے "بلومبرگ" کو بتایا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے اور یہ مہلت امریکی وقت کے مطابق بدھ کی شام ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے گفتگو میں متنبہ کیا کہ اگر اس مدت تک امریکی مطالبات پورے نہ ہوئے تو "بڑے پیمانے پر بم دھماکے ہوں گے"۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں کیا چاہتے ہیں، تو انہوں نے سادہ جواب دیا "کوئی جوہری ہتھیار نہیں"۔ یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مذاکرات سے با خبر ایک امریکی ذریعے نے فرانس پریس کو بتایا کہ ایک امریکی وفد ایران کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے جلد پاکستان روانہ ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اسلام آباد وفد بھیج رہے ہیں، تاکہ 22 اپریل کو جنگ بندی کی میعاد ختم ہونے سے قبل بات چیت ہو سکے۔ ایک اعلیٰ پاکستانی حکومتی عہدے دار نے بتایا کہ اسلام آباد کو یقین ہے کہ وہ ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے قائل کر لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایران کی جانب سے مثبت اشارہ ملا ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ منگل یا بدھ کو مذاکرات کے آغاز پر ان کی شرکت یقینی بنائی جائے۔ روئٹرز کے مطابق ایک ایرانی ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ تہران مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے، خاص طور پر بندرگاہوں کے محاصرے کے خاتمے کے حوالے سے اسلام آباد کی کوششوں کے بعد۔ واضح رہے کہ فریقین کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا دور ایک ہفتہ قبل ہوا تھا، تاہم حساس معاملات پر اختلافات کی وجہ سے وہ کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے تھے۔

Former US Vice President Kamala Harris makes strong statement on Trump's war decision
A special meeting was chaired by Pakistan Muslim League-Nawaz President Muhammad Nawaz Sharif and Punjab Chief Minister Maryam Nawaz Sharif.
Foreign delegations likely to arrive in Islamabad today for second round of US-Iran peace talks
Trump claims to have seized Iranian ship in Strait of Hormuz
We are at war with Iran, new developments could occur at any moment. Israeli Prime Minister's new threat
Iran confirms US attack on naval vessel, announces swift response












